اسلام آباد: حکام کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ 16 اگست کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
ڈان اخبار کے مطابق وہ کشمیر اور اسلام آباد کے لیے مالی حمایت سمیت دیگر معاملات پر بات کریں گے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے بیانات پر تشویش ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کشمیر کے علاقائی تنازع پر کچھ نہیں کر رہا۔
سعودی عرب نے کشمیر پر ساتھ نہ دیا تو اس کے بغیر آگے بڑھیں گے، شاہ محمود قریشی
پاکستان نے سعودی عرب کا ایک ارب ڈالر کا قرض واپس کر دیا
کئی ہفتے قبل سعودی عرب سے پاکستان سے ایک ارب ڈالرز کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا جو چین سے قرض لے کر واپس کیے گئے، ابھی تک ادھار پر تیل کی فراہمی کی پاکستان کی درخواست کا بھی سعودی عرب نے کوئی جواب نہیں دیا۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے رائٹرز کو بتایا کہ ‘ہاں وہ سفر کر رہے ہیں، یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا اور ‘بنیادی طور پر فوجی امور پر مبنی تھا’۔
چند روز قبل ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ہم سعودی عرب سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ کشمیر کے مسئلے پر ہمارے ساتھ کھڑے ہوں اور انہوں نے ایسا نہ کیا تو میں عمران خان سے کہوں گا کہ اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا، ہمیں سعودیہ عرب کے ہممراہ اور اس کے بغیر آگے بڑھنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ میں او آئی سی سے کہتا ہوں کہ اگر آپ کونسل آف فارن منسٹرز کا اجلاس نہیں بلا سکتے تو میں وزیراعظم سے کہوں گا کہ جو مسلمان ممالک کشمیر پر ہمارا ساتھ دینا چاہتے ہیں ان کا اجلاس بلا لیں چاہے وہ او آئی سی کے فورم پر ہو یا نہ ہو۔
انہوں نے سعودی عرب کے حکمرانوں کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ پاکستان کا مسلمان جو آپ کے لیے لڑ مرنے کے لیے تیار ہے وہ آپ سے تقاضا کر رہا ہے کہ آپ اس موقع پر قائدانہ صلاحیت کا مظاہرہ کریں، اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو میں عمران خان سے کہوں گا کہ اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا، ہمیں سعودیہ عرب کے ہمراہ یا اس کے بغیر آگے بڑھنا ہو گا۔