• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
منگل, اپریل 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

صحافیوں پر اعلانیہ اور غیراعلانیہ سنسرشپ عائد ہے، پاکستان بار کونسل

by sohail
اگست 13, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے کہا ہے کہ اظہار رائے اور بولنے کی آزادی کی گنجائش کم ہو رہی ہے، انسان وہی ہے جو اپنے خیالات کا اظہار کر سکے، اظہار رائے پر پابندی سے انسان نفسیاتی قید کا شکار ہو سکتا ہے، ہم سب کو مل جل کر قومی سطح پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک بھر کی بار کونسلوں کے نمائندے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی اور صحافی دوست ہمارے ساتھ شامل ہوں، ہم اظہار رائے کی آزادی کے لیے مل جل کر مہم چلائیں گے، صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز پر اعلانیہ اور غیراعلانیہ سینسرشپ عائد کی جا رہی ہے، اگر آواز نہ اٹھائی جاتی تو شاید مطیع اللّٰہ کبھی ریکور نہ ہو پاتا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہم اپنے ساتھ سیاسی جماعتوں کو شامل کر کے ستمبر کے وسط میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرائیں گے، آٹیکل 175 اے اور ججز کی تقرری کے حوالے سے قومی نقطہ نظر پیش کیا جائے گا، عالمی استحصالی قوتیں پاکستان کو قانون سازی پر مجبور کر رہی ہیں، نیب قانون کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم آل پارٹیز کانفرنس میں سیاستدانوں کو جگانے کی کوشش کریں گے، وہ راتوں رات ڈر گئے اور آرمی چیف کی توسیع کے بل کے لیے ووٹ دیا، اگر ججز کی تقرری قانونی طریقے سے نہ ہوئی تو ہم آئندہ یہ تقرریاں نہیں ہونے دیں گے۔

عابد ساقی نے مزید کہا کہ ججز کی تقرری کا طریقہ کار مایوس کن صورتحال کی جانب جا چکا ہے آئین کے آرٹیکل 175-اے کی روح کو مسخ کیا جا چکا ہے پارلیمنٹ کی کمیٹی کی اہمیت ختم کر دی گئی ہے، بار ایسوسی ایشن اور بار کونسل کے ججز کو اقلیت میں تبدیل کیا جا چکا ہے، ججز کی تقرری میں شفافیت کو ختم کر دیا ہے، اصلی اسٹیک ہولڈرز کو سائیڈ پر کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسٹیک ہولڈرز کو سائیڈ لائن کیا جائے گا تو ججز کو لانے والی قوتیں حاوی ہو جائیں گی، معاشرے کو ایسی جانب دھکیلا جا رہا ہے جہاں انصاف ناممکن ہو جائے گا، معاشرہ کفر کی بنیاد ہر تو قائم رہ سکتا ہے انصاف کے بغیر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا صدیاں لگا کر پرائیویسی کی اسٹیج پر پہنچی ہے اور ایف اے ٹی ایف کے تحت صارف کی معلومات اداروں کو شیئر کرنے کا کہا جا رہا ہے، میری معلومات اداروں کو دینا میرے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل ریاست کے ظالمانہ اقدامات کی پرزور مذمت کرتی ہے، حکومت اگر باز نہ آئی تو لوگ اس کے خلاف اٹھیں گے، سپریم کورٹ میں 45 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، بڑی عجیب بات ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر کو چھوڑ کر دوسروں کے گھروں میں جھانکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی سے سندھ میں گورنر راج لگانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں جو افسوسناک بات ہے، اگر سپریم کورٹ نے دوسرے اداروں کے معاملات میں مداخلت کرنی ہے تو سپریم کورٹ کا انتظام کسی اور کے حوالے کر دیتے ہیں، جس طرح سپریم کورٹ سندھ حکومت کو ٹارگٹ کر رہی ہے اس سے خوفناک ردعمل پیدا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے استدعا کرتا ہوں کہ کسی صوبے کی عوام کے مینڈیٹ اور ووٹ کی توہین کی جا رہی ہے، اٹارنی جنرل کو بھی کہ وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے نہ کہ کسی کارندے کا کام کریں، اگر سندھ میں کوئی غیر جمہوری کام ہوتا ہے تو پھر یہ عمل پورے ملک میں پھیلے گا۔

نائب صدر پاکستان بار کونسل نے کہا کہ سیاسی اور جمہوری عمل سے، ووٹ کے ذریعے تبدیلی ہونی چاہیے، عوام اور میڈیا کو چاہیے کہ کسی کو جعلی دیوتا نہ بنایا جائے، قوم پہلے ہی جعلی دیوتا کے اثرات بھگت رہی ہے، سندھ میں نالے صاف کرانا سپریم کورٹ کا نہیں سندھ حکومت کا کام ہے، نیب کے ذریعے آمرانہ دور کی یادیں تازہ کی جا رہی ہیں، یہ حکومت نیب کے کال اپ نوٹس جاری کر کے چلائی جا رہی ہے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قلب حسن نے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں مختصر فیصلہ آنے ایک ماہ بعد تحریری دلائل جمع ہونے پر نظرثانی درخواستیں دائر کیں، ہماری نظرثانی درخواستیں فکس نہیں ہو رہیں اور فروغ نسیم نے دوبارہ حلف اٹھا لیا ہے، شاید یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہماری درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہی نہ ہو سکیں۔

Tags: پاکستان بار کونسلپاکستان میں صحافیوں پر پابندیاںسنسر شپعابد ساقی
sohail

sohail

Next Post

بیٹی کے ساتھ تصاویر، کیا معروف اداکارہ صنم بلوچ نے خاموشی سے دوسری شادی کر لی ہے؟

آئی پی ایل کا حصہ نہ بننے پر بھارتی کرکٹر نے خودکشی کر لی

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات میں امن معاہدہ طے پا گیا، باہمی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق

یو اے ای سے معاہدے کے ایک روز بعد ہی اسرائیلی وزیراعظم اپنی زبان سے پھر گئے

بھارت میں ایک ہی روز میں ساڑھے 64 ہزار کورونا کیسز، ایک ہزار سے زائد اموات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In