چین کے شہر شنگھائی میں بغیر ڈرائیور کے آن لائن ٹیکسی کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے جس سے مستقبل کی اس ٹیکنالوجی کے عملی شکل اختیار کرنے کا امکان روشن ہو گیا ہے۔
اگرچہ ابھی تکنیکی، ریگولیٹری اور تحفظ جیسی رکاوٹوں کے باعث اس نئی ٹیکنالوجی کے زندگی کا حصہ بننے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے تاہم اس جانب کئی ممالک میں تیزی سے سفر جاری ہے۔

چین میں بیدو، علی بابا اور ڈی ڈی جیسی کمپنیوں نے حال ہی میں ملک کے کئی شہروں میں اس ٹیکسی سروس کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا ہے، بیدو اور علی بابا کی آٹو ایکس کے چیف ایگزیکٹو ژیانگ جیان شانگ کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں اس سال کے آخر تک سڑکوں پر آ جائیں گی۔
ڈی ڈی کمپنی کے پائلٹ پراجیکٹ میں ایک انسانی ڈرائیور گاڑی میں موجود رہتا ہے تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں وہ اسٹیرنگ سنبھال لے۔

جو لوگ اس ٹیسٹ میں حصہ لے رہے ہیں وہ ڈی ڈی کی موبائل ایپ کے ذریعے مضافاتی سڑکوں پر سفر کر رہے ہیں، گاڑی کے اوپر لگا ریڈار راستوں کی رہنمائی کرتا ہے۔

ڈی ڈی کے اس پراجیکٹ کو سافٹ بینک کی مالی سپورٹ میسر ہے، کمپنی نے ماضی میں چین میں اوبر سروس کو بھی خرید کیا تھا۔
چین میں گوگل کی متبادل کمپنی بیدو نے ملک کے کئی شہروں میں خودکار گاڑیوں کی آزمائش شروع کر دی ہے، اس کی 45 گاڑیاں شنگھائی جیسے پرہجوم شہر میں 130 اسکوائر کلومیٹرز طویل رستے پر سفر کر چکی ہیں۔

اس سیلف ڈرائیونگ روبو ٹیکسی میں لیزر سینسر اور کیمرے نصب ہیں جبکہ گاڑی میں مسافروں کے سفر کو محفوظ بنانے کیلئے ایک یا دو ٹیکنیشن بیٹھے ہوتے ہیں۔