مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نیب میں انہیں بلانے کا مقصد نقصان پہنچانا تھا۔
انہوں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کہا کہ نیب دفتر کے کے باہر میری گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا جس سے گاڑی کی ونڈ سکرین ٹوٹ گئی، اگر گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو پتھراؤ سے میں زخمی ہو جاتی۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے پتھراؤ کیا وہ پولیس کی یونیفارم میں تھے، اب یہ معلوم نہیں کہ وہ پولیس کے لوگ تھے یا نہیں کیونکہ پنجاب پولیس ایسا نہیں کرتی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو پتھر میرے سر پر لگتے اور میں شاید اسپتال میں داخل ہوتی، مجھے واپس جانے کے لیے نیب کے پیغامات ملتے رہے مگر میں نے کہا کہ سرکاری طور پر مجھے یہی بات بتائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ جب نیب نے اپنا اعلامیہ جاری کیا تبھی میں ان کے دفتر کے باہر سے واپس آئی، اگر میں ایسا نہ کرتی تو نیب یہی کہتا کہ میں ان کی طلبی کے باوجود نہیں پہنچی۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ سوال وہاں پوچھے جاتے ہیں جہاں سوال کرنے والے کا کوئی کردار ہو، نیب کے ہتھکنڈوں پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے معزز ججز نے مہر لگا دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رہی سہی کسر ہیومن رائٹس واچ نے پوری کر دی جنہوں نے نیب کو سیاسی انتقام، مخالفین کو دبانے اور حکومت کو برقرار رکھنے کا آلہ کار قرار دیا ہے۔
پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، رانا ثنااللہ خان، مریم اورنگزیب،پرویز رشید، دانیال عزیز، طلال چوہدری، شائستہ پرویز ملک، محمد زبیر، ملک پرویز ، خواجہ عمران نذیر، چوہدری شہباز، غزالی سلیم بٹ، فیصل کھوکھر، ثانیہ عاشق، سلمیٰ بٹ اور شیزہ خواجہ بھی موجود تھے۔
اس موقع پر شہباز شریف کی کمی محسوس کی گئی، مریم نواز نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن میں کسی قسم کا کیمپ موجود نہیں ہے، تمام لوگ میاں نواز شریف کی قیادت پر متفق ہیں۔