سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی اہلیہ جواب جمع کرانے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے آفس میں پیش ہوئی ہیں جہاں سے واپسی پر انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔
جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ جب ایف بی آر آفس سے واپس روانہ ہوئیں تو ایک صحافی نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا آپ نے جواب جمع کرا دیا ہے۔
ایف بی آر حکام ہدایات پر عمل کر رہے ہیں، جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کا الزام
انہوں نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ ابھی کوئی بات نہیں کر سکتی۔
سرینا عیسیٰ ہاتھ میں دستاویزات تھامے ایف بی آر آفس پہنچی تھیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ انہوں نے میڈیا کو ایک خط جاری کیا تھا جس میں انہوں نے ایف بی آر کے حکام پر آزادانہ طور پر کام نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
انہوں نے اپنے خط میں وہی 12 سوالات پوچھے تھے جو انہوں نے 9 جولائی کے خط میں لکھے تھے، سرینہ عیسیٰ نے کہا تھا کہ وہ ابھی تک اپنے خط کے جواب کی منتظر ہیں۔
انہوں نے اپنے ٹیکس گوشواروں کی نقول کی فراہمی کی درخواست بھی کی ہوئی ہے کیونکہ جس شخص نے یہ گوشوارے ریحان حسن نقوی کے ذریعے جمع کرائے تھے ان کا انتقال ہو چکا ہے اور اب یہ ان کے پاس نہیں ہیں۔
جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا اس خط میں کہا تھا کہ ان گوشواروں کی کاپی نہ ملنا پریشان کن ہے کیونکہ ایف بی آر نے ان گوشواروں کا حوالہ دیا ہے جو انہوں نے اس وقت جمع کرائے تھے جب انہوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور ان کی آمدنی پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا تھا۔