سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں غیر قانونی بل بورڈز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں لوڈشیڈنگ پراظہاربرہمی کرتے ہوئے سی ای او کے الیکٹرک کو فوری طور پر طلب کر لیا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اداروں کی ناقص کارکردگی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے شہر کا حلیہ بگاڑ دیا ہے، کوئی کراچی کے معاملے پر سنجیدہ نہیں۔
انہوں نے استفسار کیا کہ میئر کراچی وسیم اختر کہاں ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ اختیار نہیں ، اگر ایسا ہے تو گھر بیٹھو۔
چیف جسٹس نے کمشنر کراچی سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ کے شہر میں ہر جگہ بل بورڈز لگے ہیں، جس پر انہوں نے جواب دیا کہ لوگ پبلک پراپرٹی کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟ کمشنر کراچی نے جواب دیا کہ یہ ایک مافیا ہے اور بہت سے اداروں کا مسئلہ ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سب کو فارغ کریں، آپ کے پاس اختیار ہے، سب سے زیادہ بل بورڈز رہائشی عمارتوں پر لگے ہیں۔
میئر کراچی وسیم اختر بھی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے انہیں مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے کراچی کا کیا حال کر دیا ہے؟
چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ آپ کب جائیں گے؟ وسیم اختر نے کہا کہ 28 اگست کو مدت ختم ہو رہی ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جاؤ جان چھوٹے شہر کی۔
ایس ایس پی ساوَتھ بھی عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ بل بورڈز لگانے والے ملزمان کہاں ہیں، ایس ایس پی ساؤتھ نے عدالت کو جواب دیا کہ انہیں تلاش کر رہے ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا ملزمان سمندر کے نیچے گئے ہیں؟ انہوں نے حکم دیا کہ ملزمان کو آدھے گھنٹے میں ڈھونڈ کر لائیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سے مخاطب ہو کر کہا کہ بچے گٹر کے پانی میں روز ڈوب رہے ہیں، میری اپنی گاڑی کا پہیہ بھی گٹر میں پھنس گیا۔
انہوں نے کہا کہ لگتا ہے صوبائی اور لوکل گورنمنٹ کی کراچی سے دشمنی ہے ، شاہراہ فیصل پر عمارتیں دیکھیں اشتہار ہی اشتہار لگے ہیں، حکومت کا کام ہے کہ بلڈنگ پلان پر عمل کرائے، کراچی میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کو بنانے والا اب تک کوئی نہیں آیا، اگر کسی کے پاس پیسے ہیں تو وہ سب کر لیتا ہے، سندھ میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں، 8، 10 لوگ روز مر رہے ہیں، نیپرا کچھ نہیں کر رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کی بجلی بند نہیں کرنے دیں گے، چوڑیاں پہنی ہیں سب نے کیونکہ ان کا پیسہ کھاتے ہیں، ذمہ داران کے خلاف ہرجاں بحق شخص کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔
چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ذمہ داران کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں۔