طیارہ حادثہ میں جاں بحق ہونے والے معروف نعت خواں اور سابق گلوکار جنید جمشید کی تیسری اہلیہ نے جائیداد میں حصے کے لیے دعویٰ دائر کر دیا ہے۔
رضیہ مظفر اسلام آباد میں مقیم ہیں جبکہ انہوں نے یہ دعویٰ سندھ ہائیکورٹ میں دائر کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ جنید جمشید کی پہلی بیوی کے بچے انہیں جائیداد میں حصہ نہیں دے رہے۔
انہوں نے دعوے میں بتایا ہے کہ ان کی 20 اکتوبر 2009 میں جنید جمشید کے ساتھ شادی ہوئی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ جنید جمشید طیارے کے حادثے سے قبل ہر ماہ رقم بھیج کر ان کے اخراجات برداشت کرتے تھے۔ جنید جمشید کے بیٹے اور ان کی پہلی بیوی کے دوسرے بچوں نے ان کی وراثتی حقیقت کو چھپا کر عدالت سے جانشینی کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا تھا۔
عدالت نے 2 ستمبر کے لیے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں اور درخواست کے فیصلے تک جائیداد کی منتقلی یا فروخت روک دی ہے۔
جنید جمشید دسمبر 2016 میں چترال سے اسلام آباد آنے والے طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے، اس سانحے میں طیارے پر سوار تمام 48 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
اس حادثے میں ان کی اہلیہ بھی اس جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔