یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے متعلق مختلف ممالک کا ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں کچھ ممالک نے اسے پسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے وہیں ترکی اور ایران کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
ترکی کے صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کا ملک یو اے ای کے ساتھ تعلقات معطل کر سکتا ہے جبکہ ایران نے معاہدے کو تزویراتی حماقت قرار دیا ہے۔
طیب اردوان نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے وزیر خارجہ کو ایک حکم دیا ہے، ہم یو اے ای کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کر سکتے ہیں یا وہاں سے اپنا سفیر واپس بلا سکتے ہیں۔
ان کے ترجمان ابراہیم کالن نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا ہے کہ تاریخ ان لوگوں کو معاف نہیں کرے گی جنہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور ان کے مقصد کو فروخت کیا ہے۔
اس سے قبل ترکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا، یہ معاہدہ فلسطینی مقصد کے لیے منافقانہ دھوکہ ہے۔
ایران کا ردعمل
ایران نے اسرائیل، یو اے ای معاہدے کو سٹریٹجک حماقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ایران کی مدد سے مزاحمت کرنے والی قوتوں کو مضبوطی ملے گی۔
وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ فلسطین کے مظلوم عوام اور دنیا کی تمام آزاد اقوام مجرم اسرائیل کی قابض حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل معاف نہیں کریں گی۔
تہران نے خلیج میں اسرائیلی مداخلت کے خلاف وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ نتائج کی تمام تر ذمہ داری یو اے ای پر ہو گی۔