بڑھتے ہوئے سائبر حملوں اور پرائیویسی محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے واٹس ایپ جیسی ایپ بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ حکومت نے 60 کے قریب ویب سائیٹس کی سیکیورٹی بھی سخت کر دی ہے۔
حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے واٹس ایپ اور ٹیلیفون کالز کے ہیک ہونے کے خطرے کے پیش نظر نئی ایپ کی تیاری آخری مراحل میں پہنچ چکی ہے، سرکاری افسر اس ایپ کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کیا کریں گے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر بلال عباسی کا کہنا ہے کہ عام پاکستانیوں کے لیے واٹس ایپ کام کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری افسروں کا ڈیٹا واٹس ایپ کی وجہ سے غیرمحفوظ ہوتا ہے، اس لیے حکومتی ایپ تیار کی جا رہی ہے جس میں واٹس ایپ سے بھی زیادہ فیچرز ہوں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس ایپ میں ای میل، دستاویزات کو شیئر کرنا اور دیگر کئی فیچرز شامل کیے جا رہے ہیں، اس کا ڈیٹا کلاؤڈ پاکستان میں ہی ہو گا، یہ مائیکروسافٹ ٹیمز سے ملتی جلتی ایپ ہو گی۔
اردو نیوز کے مطابق اگلے تین ہفتوں میں وزارت آئی ٹی اور دیگر محکموں میں اس کی آزمائش شروع ہو جائے گی جبکہ تین ماہ کے اندر یہ پراجیکٹ مکمل ہو کر عملی شکل میں کام کرنا شروع کر دے گا۔
اس ایپ کی تیاری کی خبریں گزشتہ برس بھی آئی تھیں تاہم کورونا کے باعث یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہو گیا، موجودہ مالی سال میں اس کے مکمل ہونے کا امکان ہے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ڈائرکٹر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ڈیڑھ ارب روپے کے ای گورنمنٹ کے پراجیکٹ کی منظوری دی ہے جس میں فائلوں کا تبادلہ کاغذوں کے بجائے ڈیجیٹل شکل میں ہوتا ہے، اس ایپ کو ای گورنمنٹ کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا۔
اس پراجیکٹ میں کمپیوٹر انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہوتا تاکہ ڈیٹا خفیہ رکھا جا سکے، مقامی انٹرنیٹ کے ذریعے تمام محکموں کو آپس میں منسلک کیا گیا ہے۔
بلال عباسی کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حکومت ڈیٹا پروٹیکشن کا قانون بھی لا رہی ہے جس کے تحت پاکستانیوں کی معلومات ملک سے باہر نہیں جا سکیں گی، ایک ریگولیٹری ادارہ اس قانون پر عملدرآمد یقینی بنائے گا۔