جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے متحدہ عرب امارات کو طاقتور ممالک کی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمزور مسلم ممالک کی گردنیں مروڑ کر انہیں اسرائیل کے ساتھ معاہدے کا کہا جا رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یو اے ای ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو عالمی طور پر ان کے لیے کٹھ پتلی کی حیثیت رکھتا ہے، اس کا فیصلہ امت مسلمہ کا فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ممالک کو ابھر کر فیصلہ کرنا چاہیئے ورنہ یہ مزید آگے بڑھ سکتے ہیں، فلسطین اور کشمیر کی آزادی کی حمایت کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کے معاملے پر کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے، ہمارے تمام جماعتوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی تحریکیں اشتراک سے کامیاب ہوتی ہیں، کوشش ہے کہ تذبذب سے نکل کر قوم کے سامنے ایک واضح منصوبہ رکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر قوم کا ووٹ چرایا گیا ہے تو قوم کو اس کا حق واپس لوٹانا ہمارا فرض ہے، اس میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیئے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام کا اعتماد اسی صورت حاصل ہو سکے گا جب ہم اتفاق کے ساتھ تحریک چلائیں گے، ہمیں یکسو ہونے کی ضرورت ہے۔