ایک نئی ریسرچ میں انکشاف ہوا ہے کہ 18 سے 24 سال کی عمر کے 25 فیصد امریکی نوجوانوں نے کورونا وبا کے باعث جون میں سنجیدگی سے خودکشی کرنے کا سوچا تھا۔
یہ بات امریکہ کے سنٹرز کا فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشنز نے اپنی ہفتہ وار رپورٹ میں بتائی ہے، رپورٹ کے مطابق 5 ہزار 412 نوجوانوں کا 24 سے 30 جون کے دوران سروے کیا گیا تھا جس کے نتائج اب شائع کیے گئے ہیں۔
دنیا بھر میں کورونا وبا کے باعث ذہنی امراض میں اضافہ ہوا ہے، اس کی وجوہات میں وبا سے ہونے والی اموات کے علاوہ سماجی فاصلہ اور گھر میں الگ تھلگ رہنا شامل ہیں۔
ایک وسیع تر سروے کے مطابق 40.9 فیصد افراد نے کورونا وبا کی وجہ سے کم از کم ایک ذہنی بیماری کا بتایا، 31 فیصد سروے سے ایک ماہ قبل کے دورانئے میں ڈیپریشن یا انزائٹی محسوس کی تھی جبکہ 26 فیصد نے ٹراما یا ذہنی دباؤ کی علامات بتائیں۔
سروے کے نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 13 فیصد افراد نے پریشانی سے نتاج کے لیے کوئی دوائی استعمال کرنا شروع کر دی تھی، 11 فیصد نے بتایا کہ انہوں نے سنجیدگی سے خودکشی کے متعلق سوچا تھا۔
تاہم کورونا وبا کے باعث ذہنی امراض کا شکار ہونے والوں میں سب سے بڑی تعداد 18 سے 24 سال کی عمر کے نوجوان تھے، ان میں سے 75 فیصد نے کم از کم ایک ذہنی مسئلے میں مبتلا ہونے کا بتایا، 63 فیصد نوجوانوں نے انزائٹی اور اس سے متعلقہ مسائل کا شکار ہونے کی تصدیق کی۔
25.50 نوجوانوں نے بتایا کہ انہوں نے جون کے دوران خودکشی کرنے کا سنجیدگی سے سوچا تھا۔