آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو سورج کی شعاعوں کے ذریعے سمندری پانی کو آدھے گھنٹے میں پینے کے قابل بنا دیتی ہے۔
موناش یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ریسرچرز کی تیارکردہ یہ ٹیکنالوجی مالیکیول کی سطح پر چھلنی کا کام کرتے ہوئے سمندری پانی سے نمکیات اور دیگر عناصر الگ کر کے خالص پانی میں بدل دیتی ہے۔
اس کے ذریعے روزانہ 139.5 لیٹر پانی حاصل کیا جا سکتا ہے، یہ سمندری پانی صاف کرنے والے دیگر تمام ٹیکنالوجیز سے زیادہ بہتر کام کرتی ہے جن میں سورج کی روشنی اور پٹرول کے ذریعے یہ کام کیا جاتا ہے اور اس کے لیے بہت زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے۔
یاد رہے کہ ورلڈ اکنامک فورم نے تنبیہ کی ہوئی ہے کہ آنے والے دنوں میں پانی کی قلت دنیا کا بنیادی مسئلہ بن جائے گا، اس کے لیے سمندری پانی صاف کرنے کے شعبے میں بھرپور ریسرچ کی ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پینے کے پانی میں ٹھوس مواد ایک ملین کے مقابلے میں 600 حصے سے کم ہونے چاہئیں، اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے 30 منٹ میں 500 حصوں سے کم ٹھوس مواد کا حامل پانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔